| تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 192 کے تحت جھوٹی شہا
دت کی اقسام اور ان کی نوعیت مختلف ہیں مثلاً کسی واقعہ کے بارے میں
جو حقیقت پر مبنی نہ ہو اُسے تیار کرنا تا کہ وہ کسی دیوانی یا فو جداری
مقدمّہ میں بطورِ شہادت پیش کی جا سکے یا اگر کسی نے اپنی دُکان کی بہی
میں جھوٹے اندراج اِس غرض سے کئے ہوں کہ وہ ان کو کسی عدالت میں بطورِ
تائیدی شہادت پیش کرے گا تو ایسے تمام جرائم زیرِدفعہ 192 تعزیراتِ پاکستان
جرم ہیں- چند مزید جرائم کی تفصیل درج ذیل ہے-
1- کسی واقعہ کو وجود میں لانا مثلاً کسی کتاب، ریکارڈ میں غلط اندراج
کرنا یا کسی غلط بیان پر مبنی کوئی دستاویز بنانا-
2- ایسا واقعہ، غلط اندراج یا غلط بیان جس سے یہ ثابت کرنا مقصود
ہو کہ وہ بطورِ شہادت کسی عدالتی کاروائی میں یا کسی سرکاری ملازم
یا ثالث کے روبرو کاروائی میں پیش کیا جائے گا-
3- ایسا واقعہ، غلط اندراج یا غلط بیان، جو اس طورپر شہادت میں آئے
جس سے اس شخص کو جس نے کاروائی میں شہادت پر رائے قائم کرنی ہے، کو
مغالطہ میں ڈال دے-
4- کسی ایسے نکتے پر رائے دینا جو کاروائی کے نتیجہ کیلئے اہمیّت
کا حامل ہو- |