ھوم | رابطہ | ساءیٹ میپ
English  & اردو
English   & سندھی
Quick Search
 
ایف آئی آر کے اندراج میں دشواریاں ؟ ڈسٹرکٹ اور سیشن جج سے فوری رابطہ کریئے۔ عدالتی کاروائی کی نقول کے حصول کا طریقہ کار جھوٹی گواہی اور اس کے اثرات غیر قانونی حراست؟ آپ خود یا کوئی اور ہمارا آن لائن فارم بھریں۔
Home > False Witness And Effects

 جھوٹی گواہی اور اس کے اثرات

لوگوں کے حقوق کے نفاذ (enforcement) مجرم کو کیفرکردارتک پہنچانے اور مظلوم کی داد رسی تبھی ممکن ہے جب عدالت قانون کے تقاضے پورے کرتے ہوئے مقدمّات کا فیصلہ کرے اور لوگوں کو انصاف فراہم کرے- عدالتی انصاف کا ایک اہم تقاضا فریقین اور گواہان (witnesses) کی سچّی گواہی ہے-
 
 
 جھوٹی گواہی دینا جرم ہے:
جھوٹی گواہی نہ صرف غیر اخلاقی فعل ہے بلکہ قانونی جرم بھی ہے جس کی سماعت ضابطہ فوجداری مجریہ 1898ء کی دفعہ 476 کے تحت سرسری طور (summary trial) ہوتی ہے اس کے علاوہ جھوٹی گواہی تعزیراتِ پاکستان مجریہ 1860ء کی دفعہ 192 کے تحت بھی قابل گرفت جرم ہے-اگر کسی عدالت کو دورانِ کاروائی پتہ چل جائے کہ اس کے روبرو کسی شخص نے جعلسازی کا ارتکاب کیا ہے یا جھوٹی گواہی دی ہے تو عدالت ملزم کے خلاف ضابطہ کاروائی کرے گی۔ اسی طرح جھوٹی دستاویزات تیار کرنے اور اسے کسی دیوانی، فوجداری یا عدالت مال میں پیش کرنا بھی قابل تعزیر جرم ہے۔ جس کا اختیار سماعت اس عدالت کو ہے جس کے روبرو مقدّمہ زیرِسماعت ہو وہ عدالت یا تو ازِخود ایسے شخص کے خلاف کاروائی کر سکتی ہے یا کسی بھی متاثرہ درخواست کی طرف سے شکایت آنے پر بھی کر سکتی ہے-

ضابطہ فوجداری مجریہ 1898ء کی دفعہ 476 کے تحت جھوٹی گواہی پر مبنی مقدمّات کی سماعت سرسری طور (summary trial) پر ہوتی ہے جبکہ دفعہ 191 تعزیراتِ پاکستان کے تحت قاعدہ سماعت کے بعد سزا دی جاتی ہے- جھوٹی گواہی سے مراد ایسی شہادت ہے جس میں کوئی شخص دانستہ طور پر ایسا بیان دے جو جھوٹا ہو اورجس کا اُسے علم ہو کہ یہ بیان جھوٹا ہے لیکن اس کے باوجود وہ اسے سچّا قرار دے کر بیان کررہا ہو-اسی طرح اگر کوئی شخص کسی عدالت کے سامنے جہاں وہ سچّ بولنے کا قانونی پابند ہو کوئی ایسا بیان خواہ زبانی ہو یا تحریری جسے وہ باور کرتا ہوکہ یہ بیان جھوٹا ہے یا یہ جانتے ہوئے کہ وہ حقیقت پر مبنی نہیں تو ایسا شخص جھوٹی گواہی دینے کا مجرم ہوگا- مثلاً عدالت میں کسی کے خلاف یہ بیان دینا کہ جو تحریر یا دستخط اس کے سامنے ہیں وہ تحریر یا دستخط اسی شخص کے ہیں جس کے خلاف یہ ثبوت استعمال ہورہا ہے جبکہ بیان دینے والا یہ جانتا ہو وہ تحریر یا دستخط متعلقہ شخص کے نہیں ہیں یا حلف کی رُو سے بیان دینا کہ کوئی شخص کسی خاص وقت، کسی خاص مُقام پر موجود تھا، حالانکہ ایسا نہ تھا اور بیان دینے والا اس معاملہ کی نسبت کچھ نہ جانتا تھا- یا اگر کوئی مترجّم کسی ایسے بیان کی ترجمانی یا ترجمہ کی تصدیق کرتا ہے جو درسّت نہیں ہے- اسی طرح اگر کوئی گواہ ، جو قانون حلف کی دفعہ 14 کے تحت سچّی گواہی دینے کا پابند ہو ایسا بیان دے جسے وہ جانتا ہو کہ جھوٹ ہے تو وہ زیرِدفعہ 191 جرم کا مرتکب ہوگا-

 
 جھوٹی گواہی تیارکرنا:
تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 192 کے تحت جھوٹی شہا دت کی اقسام اور ان کی نوعیت مختلف ہیں مثلاً کسی واقعہ کے بارے میں جو حقیقت پر مبنی نہ ہو اُسے تیار کرنا تا کہ وہ کسی دیوانی یا فو جداری مقدمّہ میں بطورِ شہادت پیش کی جا سکے یا اگر کسی نے اپنی دُکان کی بہی میں جھوٹے اندراج اِس غرض سے کئے ہوں کہ وہ ان کو کسی عدالت میں بطورِ تائیدی شہادت پیش کرے گا تو ایسے تمام جرائم زیرِدفعہ 192 تعزیراتِ پاکستان جرم ہیں- چند مزید جرائم کی تفصیل درج ذیل ہے-


1- کسی واقعہ کو وجود میں لانا مثلاً کسی کتاب، ریکارڈ میں غلط اندراج کرنا یا کسی غلط بیان پر مبنی کوئی دستاویز بنانا-

2- ایسا واقعہ، غلط اندراج یا غلط بیان جس سے یہ ثابت کرنا مقصود ہو کہ وہ بطورِ شہادت کسی عدالتی کاروائی میں یا کسی سرکاری ملازم یا ثالث کے روبرو کاروائی میں پیش کیا جائے گا-

3- ایسا واقعہ، غلط اندراج یا غلط بیان، جو اس طورپر شہادت میں آئے جس سے اس شخص کو جس نے کاروائی میں شہادت پر رائے قائم کرنی ہے، کو مغالطہ میں ڈال دے-

4- کسی ایسے نکتے پر رائے دینا جو کاروائی کے نتیجہ کیلئے اہمیّت کا حامل ہو-

 
 کسی ایسے جرم میں جھوٹی گواہی دینا جس کی سزا موت ہو:
تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 194 کے تحت جو کوئی اس نیّت سے جھوٹی گواہی دے کہ اس سے وہ کسی شخص کو ایسے جرم میں مُلوّث کر کے سزا دلواسکے یا سزا دلوانے کا باعث بن سکے یا اس بات کا احتمال ہو کہ وہ شخص ایسے جرم میں جس کی سزا موت ہو سکتی ہو تو اس جھوٹی گواہی دینے والے شخص کو عمر قید یا قید سخّت کی سزا دی جائے گی جس کی میعاد دس برس تک ہو سکتی ہے اس کے علاوہ جرمانہ بھی ہو سکتا ہے- اگر اس جھوٹی گواہی کے نتیجے میں کوئی بے گناہ شخص پھانسی پا جائے تو اس شخص کو جس نے ایسی جھوٹی گواہی دی ہو کو سزائے موت یا وہ سزا جو تعزیراتِ پاکستان میں درج ہے، دی جاسکتی ہے-
 
 ایسے جرائم میں جھوٹی گواہی دینا جس کی سزا عمر قید یا سات سال سے زائد ہو:
جو کوئی تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 195 کے تحت اس نیّت سے جھوٹی گواہی دے کہ اس سے وہ کسی شخص کو کسی ایسے جرم میں سزا دلواسکے جو رائجُ الوقت قانون کے مطابق سنگین جرم تو نہیں مگر اس کی سزا عمر قید یا سات سال یا اس سے زیادہ ہو سکتی ہے تو اس کو وہ سزا دی جائے گی جو اصل مجرم کو دی جاتی ہے جس نے اس جرم کا ارتکاب کیا ہو مثلاً کسی کو ڈکیتی کے جرم میں مُلوّث کرنے کیلئے جھوٹی گواہی دینے کی سزادس برس تک مع جرمانہ یا قید ہو سکتی ہے-
 
 اقرارنامہ یا سرٹیفیکیٹ (certificate) کو جھوٹا جانتے ہوئے بطور سچّا استعمال کرنے کی سزا:
تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 198 کے تحت جو کوئی بدنیّتی سے کسی ایسے اقرارنامہ کو سچّا ظاہر کرے جس کے بارے میں وہ جانتا ہو کہ یہ سچ پر مبنی نہیں تو اس کو جھوٹی گواہی دینے کی سزا دی جائے گی-
 
 جرم کے ارتکاب کی شہادت کو غائب کر دینا:
تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 201 کے تحت اگر کوئی شخص جرم کے ارتکاب میں متعلقہ نشانات، علامات اور دیگر ثبوت چھپاتا ہے، مٹاتاہے یا ان سے متعلق غلط بیانی سے کام لیتا ہے جس سے جرم کی تفتیش میں مشکلات پیدا ہوں جیسے کسی کی لاش یا خون کے دھبّے غائب کر دینا یا جعلی تیار کردہ دستاویزات یا ایسی نوعیت کی دیگر اشیاء جن سے ظاہر ہوتا ہو کہ جرم کا ارتکاب نہیں ہوا یا اس کو چھپا دینے سے ملزم کا بنیادی مقصد مجرم کو قانونی سزا سے بچانا مقصود ہو- ان حالات میں اگر جرم سنگین نوعیت کا ہو، مثلاً ایسا جرم جس کی سزا موت مقرّر ہے تو اس مقرّر کردہ سزا میں سے کسی ایک قسم کی قید کی سزا دی جائے گی جس کی میعاد سات برس تک ہو سکتی ہے اوروہ جرمانہ کا بھی مستوجب ہو گا- اسی طرح اگر اس جرم کی سزا عمر قید ہے یا دس سال تک کی قید کی سزا مقرّر ہے تو ایسی صورت میں دونوں قسموں میں سے کسی قسم کی قید کی سزا دی جائے گی جس کی میعاد تین برس تک ہو سکتی ہے اوروہ جرمانے کا مستوجب بھی ہوگایا اگر ایسے جرم کی سزا ایسی قید مقرّر ہے جس کی میعاد دس برس تک نہ ہو تو اس شخص کواس قسم کی قید کی سزا دی جائے گی جو اس جرم کیلئے مقرّر ہے اور جس کی میعاد اس قید کی بڑی سے بڑی میعاد کی ایک چوتھائی تک ہو سکتی ہے جو جرم مذکور کیلئے مقرّر ہے یا جرمانہ یا دونوں سزائیں-
 
مزید معلومات کیلئے حسب ذیل پتہ پر رابطہ کیا جا سکتا ہے-

ریسرچ آفیسر II

فون نمبر 9220483 ، 9209412-051

فیکس نمبر 9214416-051

ای میل ljcp@ljcp.gov.pk

District Courts Malir
District & Sessions Courts, Malir District © 2005-2008
Karachi, Ph: 021-9248477, Fax: 021-9248478 
Trees Software Pvt.Ltd